کھنڈر دل میں گزرے زمانوں کے ہیں
مکیں ہم پرانے مکانوں کے ہیں
ہر اک منہ کو جیسے لہو چاہیے
عجب ذائقے اب زبانوں کے ہیں
زمیں کا سکوں کر رہے ہیں تباہ
یہ باشندے کن آسمانوں کے ہیں
ہواؤں کو خاطر میں لاتے نہیں
اسیر اس طرح بادبانوں کے ہیں
مناظر ہوں واضح بھلا کس طرح
دھوئیں ہر طرف کارخانوں کے ہیں
اگرچہ بہت پر شکستہ ہیں ہم
مگر پھر بھی قائل اڑانوں کے ہیں
سجاوٹ میں اپنا بھی ثانی نہیں
زمان آئینے ہم دوکانوں کے ہیں
زمان کنجاہی
No comments:
Post a Comment