Thursday, 15 October 2020

جو پیڑ پہ بیٹھا ہوا پھل توڑ رہا ہے

 جو پیڑ پہ بیٹھا ہوا پھل توڑ رہا ہے

ہر شاخ کا رخ اپنی طرف موڑ رہا ہے

جو دیکھ رہے ہیں وہ دکھائی نہیں دیتے

اک سوختہ تن اتنا دھواں چھوڑ رہا ہے

گاڑی ہے مِری عمر کی آگے کو روانہ

منظر مِرے پیچھے کی طرف دوڑ رہا ہے

میں جس کے اشارے پہ ہوا غیر مسلح

اس کا مِرے دشمن سے بھی گٹھ جوڑ رہا ہے

جس دستِ گل اندام کو میں دیکھ رہا ہوں

کانٹے سے مِری چشمِ طلب پھوڑ رہا ہے

معلوم نسیم اس کو نہیں زہر کی تاثیر

جو سوئے ہوئے سانپ کو جھنجھوڑ رہا ہے


نسیم عباسی

No comments:

Post a Comment