صفحات

Wednesday, 14 October 2020

سائیں تو اپنی چلم سے تھوڑی سی آگ دے

 سائیں! تُو اپنی چلم سے

تھوڑی سی آگ دے دے

میں تیری اگر بتی ہوں

اور تیری درگاہ پر مجھے

ایک گھڑی جلنا ہے

یہ تیری محبت تھی

جو اس پیکر میں ڈھلی

اب پیکر سلگے گا

تو ایک دھواں سا اٹھے گا

دھوئیں کا لرزاں بدن

آہستہ سے کہے گا

جو بھی ہوا بہتی ہے

درگاہ سے گزرتی ہے

تیری سانسوں کو چھوتی ہے

سائیں! آج مجھے

اس ہوا میں ملنا ہے

سائیں! تو اپنی چلم سے

تھوڑی سی آگ دے دے

میں تیری اگر بتی ہوں

اور تیری درگاہ پر مجھے

ایک گھڑی جلنا ہے

جب بتی سلگ جائے گی

ہلکی سی مہک آئے گی

اور پھر میری ہستی

راکھ ہو کر

تیرے قدم چھوئے گی

اسے تیری درگاہ کی

مٹی میں ملنا ہے

سائیں! تو اپنی چلم سے

تھوڑی سی آگ دے دے

میں تیری اگر بتی ہوں

اور تیری درگاہ پر مجھے

ایک گھڑی جلنا ہے


امرتا پریتم


پنجابی سے اردو ترجمہ کا اعزاز اسماء سلیم کو جاتا ہے

No comments:

Post a Comment