صفحات

Wednesday, 14 October 2020

بنتا ہے مگر جشن منانے سے رہا میں

 بنتا ہے مگر جشن منانے سے رہا میں

بچوں کی طرح ناچنے گانے سے رہا میں

اک زخم جو میرے لیے کعبے کی طرح ہے

ہر شخص کو اندر سے دکھانے سے رہا میں

دل میں بھی نکل سکتی ہے گجائشِ دنیا

لیکن اسے بازار بنانے سے رہا میں

کانوں میں فقط زہر بھرے جس کا خلاصہ

اس بات کی تفصیل میں جانے سے رہا میں

دن میرا بھی ہر شام نگل جاتی ہے لیکن

چڑیوں کی طرح شور مچانے سے رہا میں

اب اس سے نکلنے کا بہانہ نہیں ملتا

جس دل میں محبت کے بہانے سے رہا میں

لکھوا لو پتہ گھر کا کبیر اپنے بدن پر

ہر بار تمہیں ڈھونڈ کے لانے سے رہا میں


کبیر اطہر

No comments:

Post a Comment