صفحات

Wednesday, 14 October 2020

ظل الہیٰ عشق ہے عالم پناہ عشق

 ظلِ الہیٰ عشق ہے عالم پناہ عشق

اس پوری کائنات میں اک بادشاہ عشق

یہ بزم بزمِ خیر ہے چپ کر کے بیٹھئیے

یہ جائے احترام ہے، یہ بارگاہ عشق

پڑھ لی ہے گر نماز تو دھمال کر میاں

مسجد تِری تو ہے نہیں یہ خانقاہ عشق

مجھ پر یہ کفر و شرک کے فتوے فضول ہیں

درویش آدمی ہوں، مِرا بس گناہ عشق

میں چاہتا ہوں روند کے رکھ دے مِرا بدن

آ لگ مِرے گلے مجھے کر دے تباہ عشق

میثم کہاں تُو میثمِ تمّار وہ کہاں

ایسا بھی اب نہیں ہے تِرا خیر خواہ عشق


میثم علی آغا

No comments:

Post a Comment