صفحات

Thursday, 15 October 2020

سلا چکی تھی یہ دنیا تھپک تھپک کے مجھے

 سلا چکی تھی یہ دنیا تھپک تھپک کے مجھے

جگا دیا تیری پازیب نے کھنک کے مجھے

کوئی بتائے کہ میں اِس کا کیا علاج کروں

پریشاں کرتا ہے یہ دل دھڑک دھڑک کے مجھے

تعلقات میں کیسے دراڑ پڑتی ہے

دکھا دیا کسی کم ظرف نے چھلک کے مجھے

ہمیں خود اپنے ستارے تراشنے ہوں گے

یہ ایک جگنو نے سمجھا دیا چمک کے مجھے

بہت سی نظریں ہماری طرف ہیں محفل میں

اشارہ کر دیا اس نے ذرا سرک کے مجھے

میں دیر رات گئے جب بھی گھر پہنچتا ہوں

وہ دیکھتی ہے بہت چھان کے پھٹک کے مجھے


راحت اندوری

No comments:

Post a Comment