سلا چکی تھی یہ دنیا تھپک تھپک کے مجھے
جگا دیا تیری پازیب نے کھنک کے مجھے
کوئی بتائے کہ میں اِس کا کیا علاج کروں
پریشاں کرتا ہے یہ دل دھڑک دھڑک کے مجھے
تعلقات میں کیسے دراڑ پڑتی ہے
دکھا دیا کسی کم ظرف نے چھلک کے مجھے
ہمیں خود اپنے ستارے تراشنے ہوں گے
یہ ایک جگنو نے سمجھا دیا چمک کے مجھے
بہت سی نظریں ہماری طرف ہیں محفل میں
اشارہ کر دیا اس نے ذرا سرک کے مجھے
میں دیر رات گئے جب بھی گھر پہنچتا ہوں
وہ دیکھتی ہے بہت چھان کے پھٹک کے مجھے
راحت اندوری
No comments:
Post a Comment