صفحات

Friday, 20 November 2020

کہ دوسروں کا نہ منظر بگاڑ کر جانا

 کہ دوسروں کا نہ منظر بگاڑ کر جانا

نظارہ کرنا پر آنکھیں نہ گاڑ کر جانا

کسی نے رکنا نہیں پھول توڑنے سے مگر

تم اپنے باغ کے چو گِرد باڑ کر جانا

میں چاہتا ہوں وہ بے فکر ہو کے مجھ سے لڑے

مرے عدو کے عدو کو پچھاڑ کر جانا

بہار آئے نہ آئے دوبارہ گلشن میں

اب آ گئے ہو تو سب کچھ اجاڑ کر جانا

کہ اس نے سُر کوئی دریافت کرنے دینا نہیں

تُو دل کے تار مگر چھیڑ چھاڑ کر جانا


شاہد نواز

No comments:

Post a Comment