صفحات

Friday, 20 November 2020

رات میں کوئی ہجر کا مارا جاگے ہے

 رات میں کوئی ہجر کا مارا جاگے ہے

یا کوئی قسمت سے ہارا جاگے ہے

میں جاگوں اک درد جو مجھ کو لاحق ہے

جانے کیوں یہ را ت کا تا را جاگے ہے

پنچھی، جگنو، پھول بھی اس کو ڈھونڈیں ہیں

اس کی یاد میں دشت بھی سارا جاگے ہے

درد کی چادر اوڑھ کے میں سوجاتا ہوں

لیکن مجھ میں ہجر تمہارا جاگے ہے

عاشر اس کو چھو کے ہم نے دیکھا ہے

اس کا مطلب لیکھ ہمارا جاگے ہے


عمران عاشر

No comments:

Post a Comment