صفحات

Friday, 20 November 2020

پاس آنے میں جب زمانے لگے

 پاس آنے میں جب زمانے لگے

ہم غلط راستے سے جانے لگے

دل بڑا کر کے میں بھی سونے لگا

اتنا سویا کہ خواب آنے لگے

راتیں خاموشیاں بچھا کے کٹیں

دن کسی ڈھابے پر بِتانے لگے

ہجر میں یہ بھی دور آیا کہ گھر

رونے آتے تھے، رو کے آنے لگے

اردو بولی تو جیسے جادو ہوا

آنکھیں جھپکیں تو ہم ٹھکانے لگے

اس قدر بے بسی کہ شرم سے ہم

رو نہ پائے، تو مسکرانے لگے

اس نے دل میں ہر اک کو دی ہے جگہ

چائے کی کیتلی میں خانے لگے


آل عمر

آلِ عمر

No comments:

Post a Comment