صفحات

Sunday, 22 November 2020

اپنی ساتھی خرید لائی ہوں

 اپنی ساتھی خرید لائی ہوں

میں اداسی خرید لائی ہوں

کل لٹکنا ہے مجھ کو پنکھے سے

آج رسی خرید لائی ہوں

آنسوؤں میں بھگو کے کھاؤں گی

سوکھی روٹی خرید لائی ہوں

وہ مجھے یاد تو کرے گا نا

دیکھ ہچکی خرید لائی ہوں

تیرا تحفہ سمجھ کے پہنوں گی

سرخ چوڑی خرید لائی ہوں

اب دسمبر میں کون بھیجے گا

اپنی جرسی خرید لائی ہوں

ہاں ترا ہجر کاٹنا ہے مجھے

شال کالی خرید لائی ہوں

اپنی آنکھوں کو بیچ کر ناہید

ایک کھڑکی خرید لائی ہوں


ناہید اختر بلوچ

No comments:

Post a Comment