جب مجھ سے پوچھتا ہے کوئی ماجرائے دل
بے اختیار منہ سے نکلتا ہے ہائے دل
کوئی تو بات تھی کہ جو ہم تم پہ مر مٹے
صورت ہی دلرہا ہو تو کیونکر نہ آئے دل
ہم تم کو کیا کہیں، مگر اتنی دعا تو ہے
اس کا بھی دل دُکھے جو ہمارا دُکھائے دل
نقصان ہو کہ نفع برابر ہے عشق میں
جائے تو جائے جان جو آئے تو آئے دل
قاصد گیا گیا، نہ گیا کس کو اعتیار؟
میری تو رائے یہ ہے کہ ہمراہ جائے دل
حوریں بہت حسین سہی شیخ جی، مگر
جو کوئی ہو تمہیں سا تو ان سے لگائے دل
دونوں کی اتحاد کی فرقت میں حد نہیں
دل آشنائے درد ہے، درد آشنائے دل
شکوہ کیا ستم کا تو کہنے لگا وہ شوخ
ہم پوچھتے ہیں ہم سے کوئی کیوں لگائے دل
سنتے ہیں ہجؔر عشق میں دیوانہ ہو گیا
پوچھو مزاج بھی تو وہ کہتا ہے ہائے دل
ناظم علی ہجر
ناظم علی خاں ہجر
No comments:
Post a Comment