صفحات

Friday, 20 November 2020

کوئی بھی سامان نہیں ہے اب میری حیرانی کو

 کوئی بھی سامان نہیں ہے اب میری حیرانی کو

آتشدان میں پھینک دیا ہے اک خط لکھ کر پانی کو

ان سے پوچھو جن پر گزرے لمحے اصل قیامت کے

لوگ تو ہجرت کہہ دیتے ہیں ہر اک نقل مکانی کو

کرداروں کی کھیپ بلا کر کیا تصویر بناؤ گے

ایک کہانی سے ڈھانپو گے کس کس کی عریانی کو

جس لمحے سونپے تھے ہم نے خواب بلوریں آنکھوں کو

کوس رہے ہیں اب تک ہم اس لمحے کی نادانی کو

گھور رہا ہے کب سے میرا دل اک خالی سا پنجرہ

زنداں سے آواز آتی ہے "آ جاؤ" زندانی کو

جس چشمے سے پانی پینا اس کا سودا کر دینا

غداری کہتے ہیں بھائی ایسی بے ایمانی کو


شمامہ افق

No comments:

Post a Comment