صفحات

Friday, 20 November 2020

سمندر ہو کے لب پہ تشنگی ہے

 سمندر ہو کے لب پہ تشنگی ہے

سنا ہے نام اس کا زندگی ہے

اکیلی بیٹھ کے روتی ہوں جب بھی

تمہاری یاد آنسو پونچھتی ہے

اسے بچھڑے ہوئے ہے گیارواں دن

مسلسل فون کی چپ کاٹتی ہے

ہمارا ساتھ شاید تھا یہیں تک

تری یہ بات مجھ کو کھا گئی ہے

میں پہلے اس طرح جلتی نہیں تھی

تمہارے ہجر سے یہ روشنی ہے

اسے کہہ دو ملی ہیں ساری خوشیاں

مگر یہ آنکھ تجھ کو ڈھونڈتی ہے

اسے کہنا پرندے اڑ گئے ہیں

تمہاری عافیہ بھی رو رہی ہے


اقراء عافیہ

No comments:

Post a Comment