صفحات

Saturday, 21 November 2020

اب نہیں لوٹ کے آنے والا

 اب نہیں لوٹ کے آنے والا

گھر کھلا چھوڑ کے جانے والا

ہو گئیں کچھ ادھر ایسی باتیں

رک گیا روز کا آنے والا

عکس آنکھوں سے چرا لیتا ہے

ایک تصویر بنانے والا

لاکھ ہونٹوں پہ ہنسی ہو، لیکن

خوش نہیں خوش نظر آنے والا

زد میں طوفان کی آیا کیسے

پیاس ساحل پہ بجھانے والا

رہ گیا ہے مرا سایہ بن کر

مجھ کو خاطر میں نہ لانے والا

بن گیا ہم سفر آخر نظمی

راستہ کاٹ کے جانے والا


اختر نظمی

No comments:

Post a Comment