سن خزاؤں میں بھی پتوں سے بھرے رہتے ہیں
وہ لگاتا ہے تو پھر پیڑ ہرے رہتے ہیں
ہم غریبوں کو غریبی کے مسائل ہیں بہت
ہم محبت کے مسائل سے پرے رہتے ہیں
اس چمن کو ملے ہیں اب کے یہ کیسے مالی
تتلیاں خوف زدہ،۔ پھول ڈرے رہتے ہیں
ہم سے پھولوں کو حسیں زلف نہیں ملتی دوست
ہم تو بے کار کتابوں میں دھرے رہتے ہیں
دانش علی
No comments:
Post a Comment