صفحات

Saturday, 21 November 2020

سن خزاؤں میں بھی پتوں سے بھرے رہتے ہیں

 سن خزاؤں میں بھی پتوں سے بھرے رہتے ہیں

وہ لگاتا ہے تو پھر پیڑ ہرے رہتے ہیں

ہم غریبوں کو غریبی کے مسائل ہیں بہت

ہم محبت کے مسائل سے پرے رہتے ہیں

اس چمن کو ملے ہیں اب کے یہ کیسے مالی

تتلیاں خوف زدہ،۔ پھول ڈرے رہتے ہیں

ہم سے پھولوں کو حسیں زلف نہیں ملتی دوست

ہم تو بے کار کتابوں میں دھرے رہتے ہیں


دانش علی

No comments:

Post a Comment