صفحات

Sunday, 22 November 2020

خدا ہماری کال اٹھا

 خدا کو میسج


سفید وقت سے بھرے پڑے ہوئے مکان ہیں

چراغ ہیں نہ باغ ہیں

نہ دوستی نہ روشنی

گٹار ہے نہ گیت ہیں

نہ پھول ہیں، فضول ہیں

جگہ جگہ رکھی ہوئی ہے پتھروں کی مورتی

رگوں میں ریت ہے، زباں پہ گالیاں بھری ہوئیں

چہار سمت شور ہے، یہ پتھروں کا دور ہے

ناکردہ جرم جن کے سر پہ آ گئے، وہ لوگ بھی

پڑے ہوئے ہیں بجریوں کی مثل ایک کونے میں

بڑے ادب سے السلام اے خدا

جب ان تمام پتھروں کے گندے کام دیکھ لے

تو پھر شکستہ حال بکھری بجریوں کا حال اٹھا

خدا ہماری کال اٹھا


احمر فاروقی

No comments:

Post a Comment