صفحات

Friday, 20 November 2020

یہ کچی عمر کی نادان لڑکیاں شب بھر

 یہ کچی عمر کی نادان لڑکیاں شب بھر

پکڑتی رہتی ہیں خوابوں میں تتلیاں شب بھر

بڑے سکون سے ٹیبل پہ سوئی رہتی ہیں

تمام دن کی تھکی ہاری چوڑیاں شب بھر

سماعتوں کی یہ حساسیت اذیت ہے

سنائی دیتی ہیں تاروں کی سسکیاں شب بھر

مَرا تھا ٹھنڈ سے بیٹا، سو اب بھی پاگل باپ

جلاتا رہتا ہے سردی میں لکڑیاں شب بھر

جگی سی رہتی ہیں اک چاند کی محبت میں

نہ جانے کتنے مکانوں کی کھڑکیاں شب بھر

ہیں ان کے بیچ زمانوں کے فاصلے اکبر

جو پکڑے چلتے ہیں خوابوں میں انگلیاں شب بھر


صدیق اکبر

No comments:

Post a Comment