یہ کچی عمر کی نادان لڑکیاں شب بھر
پکڑتی رہتی ہیں خوابوں میں تتلیاں شب بھر
بڑے سکون سے ٹیبل پہ سوئی رہتی ہیں
تمام دن کی تھکی ہاری چوڑیاں شب بھر
سماعتوں کی یہ حساسیت اذیت ہے
سنائی دیتی ہیں تاروں کی سسکیاں شب بھر
مَرا تھا ٹھنڈ سے بیٹا، سو اب بھی پاگل باپ
جلاتا رہتا ہے سردی میں لکڑیاں شب بھر
جگی سی رہتی ہیں اک چاند کی محبت میں
نہ جانے کتنے مکانوں کی کھڑکیاں شب بھر
ہیں ان کے بیچ زمانوں کے فاصلے اکبر
جو پکڑے چلتے ہیں خوابوں میں انگلیاں شب بھر
صدیق اکبر
No comments:
Post a Comment