صفحات

Saturday, 21 November 2020

اسی لیے تو کشش رکھتی ہے زمیں مرے دوست

 اسی لیے تو کشش رکھتی ہے زمیں مرے دوست

وہ ایک شخص ہوا ہے یہاں مکیں مرے دوست

ہم ایسے لوگوں پہ اول تو فلمیں بنتی نہیں

بنیں تو ہوتے نہیں ان کے ناظریں مرے دوست

میں تیری آنکھیں نہیں، پلکیں ہی بنا پایا

جو دیکھتا ہے وہ کہتا ہے آفریں مرے دوست

وہ اتنی خستہ عمارت تھی، آ پڑی مجھ پر

میں ڈر کے جس میں ہوا تھا پنہ گزیں مرے دوست

میں اور کیسے کروں قافیہ یہ استعمال؟

کہ عورتوں سے زیادہ ہے کیا حسیں مرے دوست

وہ دن بھی لائے خدا جب میں اس سے رخصت لوں

وہ میرے پاؤں پکڑ کر کہے، نہیں مرے دوست

مرے حوالے سے کرتے ہیں سازشیں عارض

کہیں کہیں مرے دشمن کہیں کہیں مرے دوست


آفتاب عارض

No comments:

Post a Comment