اسی لیے تو کشش رکھتی ہے زمیں مرے دوست
وہ ایک شخص ہوا ہے یہاں مکیں مرے دوست
ہم ایسے لوگوں پہ اول تو فلمیں بنتی نہیں
بنیں تو ہوتے نہیں ان کے ناظریں مرے دوست
میں تیری آنکھیں نہیں، پلکیں ہی بنا پایا
جو دیکھتا ہے وہ کہتا ہے آفریں مرے دوست
وہ اتنی خستہ عمارت تھی، آ پڑی مجھ پر
میں ڈر کے جس میں ہوا تھا پنہ گزیں مرے دوست
میں اور کیسے کروں قافیہ یہ استعمال؟
کہ عورتوں سے زیادہ ہے کیا حسیں مرے دوست
وہ دن بھی لائے خدا جب میں اس سے رخصت لوں
وہ میرے پاؤں پکڑ کر کہے، نہیں مرے دوست
مرے حوالے سے کرتے ہیں سازشیں عارض
کہیں کہیں مرے دشمن کہیں کہیں مرے دوست
آفتاب عارض
No comments:
Post a Comment