Saturday, 21 November 2020

میں اس سے دور رہا اس کی دسترس میں رہا

 میں اس سے دور رہا اس کی دسترس میں رہا

وہ ایک شعلے کی صورت مرے نفس میں رہا

نظر اسیر اسی چشمِ مے فشاں کی رہی

مرا بدن بھی مری روح کے قفس میں رہا

چمن سے ٹوٹ گیا برگِ زرد کا رشتہ

نہ آب و گل میں سمایا نہ خار و خس میں رہا

تمام عمر کی بے تابیوں کا حاصل تھا

وہ ایک لمحہ جو صدیوں کے پیش و پس میں رہا

وہ ایک شاعر آشفتہ سر کہ مجھ میں تھا

ہوا کا ساتھ نہ دے کر ہوا کے بس میں رہا

کسی خیال کے نشے میں دن گزرتے رہے

میں اپنی عمر کے انیسویں برس میں رہا


عباس رضوی

No comments:

Post a Comment