تمہاری آنکھیں جنت دکھاتی کھلی کھڑکیاں ہیں
تمہاری مسکراہٹ نے
بہار کو آمد کا اِذن بخشا ہے
دورانِ وصل تمہاری دھڑکن کے خوش الحان گیتوں سے
نغمہ ساز نئی دھنیں ترتیب دیتے ہیں
تمہیں سراہنے کے لیے
میری آنکھیں ضروری ہیں
سو میں نے شہر کے اندھے لوگوں میں
اپنی بینائی بانٹ دی ہے
تم خوش بدن کو چھونے کے لیے میرے دو ہاتھ کافی نہیں ہیں
سو آج کی رات جو تم تاروں کو آسماں پہ نہ پاؤ تو حیران مت ہونا
بس اک نظر اپنی اور دوڑانا کہ وہ تارے تمہاری جلد کی پوروں میں
ٹمٹماتے دِکھیں گے
میں نے آج کی رات تاروں سے
لمس کی روشنی مستعار لے لی ہے
نمرہ بٹ
No comments:
Post a Comment