صفحات

Saturday, 21 November 2020

وہ نیند میں نہیں چلتی

 وہ نیند میں نہیں چلتی


وہ نیند میں نہیں چلتی

مگر ہر رات جاتی ہے

بے آہٹ قدموں سے

ننگے پاؤں

بغیر کسی چاپ کے

ایک نامعلوم باغ میں

رات کے گمشدہ حصے میں

وقت ناپنے والے آلات پر نظر ڈالے بغیر

وہ نہیں چاہتی کہ سوئے ہوئے گلاب جاگ جائیں

بہت قریب سے

نہایت احتیاط کے ساتھ

ایک اداس کونے میں کھڑی

کچھ دیر دیکھتی ہے

لوٹ جانے سے پہلے

صبح پتیوں پر بوندیں چمکتی ہیں


افتخار بخاری

No comments:

Post a Comment