وہ نیند میں نہیں چلتی
وہ نیند میں نہیں چلتی
مگر ہر رات جاتی ہے
بے آہٹ قدموں سے
ننگے پاؤں
بغیر کسی چاپ کے
ایک نامعلوم باغ میں
رات کے گمشدہ حصے میں
وقت ناپنے والے آلات پر نظر ڈالے بغیر
وہ نہیں چاہتی کہ سوئے ہوئے گلاب جاگ جائیں
بہت قریب سے
نہایت احتیاط کے ساتھ
ایک اداس کونے میں کھڑی
کچھ دیر دیکھتی ہے
لوٹ جانے سے پہلے
صبح پتیوں پر بوندیں چمکتی ہیں
افتخار بخاری
No comments:
Post a Comment