Saturday, 21 November 2020

کیوں بڑھے بات کہ تاویل کا پہلو نکلے

 کیوں بڑھے بات کہ تاویل کا پہلو نکلے

کیوں خدا کی کسی تمثیل کا پہلو نکلے

کچھ ترے بھائی کو انصاف بھی کرنا پڑے گا

تُو بھی مت سوچ کہ قابیل کا پہلو نکلے

اب تو درویش کوئی آ کے اگر مانگے دعا

تب بھی شاید ہی ابابیل کا پہلو نکلے

کوئی الجھن ہو میں کرتا ہوں مسلسل ترا ذکر

تاکہ مجھ واسطے قندیل کا پہلو نکلے

زندگانی مری گردش میں گزر جائے اور

کیا ہو آخر میں جو تطویل کا پہلو نکلے

اپنے جذبات بیاں کرنا کوئی سہل نہیں

سخن آرائی سے تسہیل کا پہلو نکلے

جب محبت میں صداقت ہی نہیں ہے تو عمیر

غیر معقول ہے تکمیل کا پہلو نکلے


عمیر احمد

No comments:

Post a Comment