صفحات

Wednesday, 2 December 2020

فن کی اور ذات کی پیکار نے سونے نہ دیا

 فن کی اور ذات کی پیکار نے سونے نہ دیا

دل میں جاگے ہوئے فنکار نے سونے نہ دیا

ہر طرف تپتی ہوئی دھوپ مرے ساتھ گئی

زیرِ سایہ کسی دیوار نے سونے نہ دیا

ایک معصوم سی صورت کو کہیں دیکھا تھا

پھر بھی چشمانِ گنہ گار نے سونے نہ دیا

میرے ہمسائے میں شاید ہے کوئی مجھ جیسا

ہے جو چرچا، کسی بیمار نے سونے نہ دیا

کل مرے شہر میں اک ظلم کچھ ایسا بھی ہوا

رات بھر غیرتِ فنکار نے سونے نہ دیا

جاگتے رہنے کا آرام تو کیا ہم کو بھی

چین سے شدتِ افکار نے سونے نہ دیا

کل کچھ ایسی ہی سرِ بزم مری بات گری

کسی پہلو مرے پندار نے سونے نہ دیا

ایک دھڑکا سا لگا تھا کہ سحر دم کیا ہو

سر پہ لٹکی ہوئی تلوار نے سونے نہ دیا


کرار نوری

No comments:

Post a Comment