صفحات

Wednesday, 2 December 2020

تجھ سے وعدہ عزیز تر رکھا

 تجھ سے وعدہ عزیز تر رکھا

وحشتوں کو بھی اپنے گھر رکھا

اپنی بے چہرگی چھپانے کو

آئینے کو ادھر ادھر رکھا

اک ترا غم ہی اپنی دولت تھی

دل میں پوشیدہ بے خطر رکھا

آرزو نے کمال پہچانا

اور تعلق کو طاق پر رکھا

اس قدر تھا اداس موسمِ گل

ہم نے آبِ رواں پہ سر رکھا

اپنی وارفتگی چھپانے کو

شوق نے ہم کو در بہ در رکھا

کلمۂ شکر، کہ محبت نے

ہم کو تمہیدِ خواب پر رکھا

ان کو سمجھانے اپنا حرفِ سخن

آنسوؤں کو پیام پر رکھا


کشور ناہید

No comments:

Post a Comment