صفحات

Saturday, 19 December 2020

ہدف ہوائے الم کا ہمارا گھر ہی نہیں

 ہدف ہوائے الم کا ہمارا گھر ہی نہیں

کسی طرف سے کوئی خیر کی خبر ہی نہیں

میاں بہ پیشِ عدو تم انا بھی ہار چکے

شکست تیغ و تبر کے محاذ پر ہی نہیں

حضورِ غیر کچھ ایسے جھکی ہوئی ہے جبیں

یہ لگ رہا ہے کہ شانوں پہ جیسے سر ہی نہیں

تو کیا کتاب و قلم کی روایتوں کا بھرم

دلوں میں ڈر ہی نہیں، حرف میں اثر ہی نہیں

تمام ذہن کرائے پہ اٹھ گئے عالی

یہاں کسی کا کوئی نکتۂ نظر ہی نہیں


جلیل عالی

No comments:

Post a Comment