ہدف ہوائے الم کا ہمارا گھر ہی نہیں
کسی طرف سے کوئی خیر کی خبر ہی نہیں
میاں بہ پیشِ عدو تم انا بھی ہار چکے
شکست تیغ و تبر کے محاذ پر ہی نہیں
حضورِ غیر کچھ ایسے جھکی ہوئی ہے جبیں
یہ لگ رہا ہے کہ شانوں پہ جیسے سر ہی نہیں
تو کیا کتاب و قلم کی روایتوں کا بھرم
دلوں میں ڈر ہی نہیں، حرف میں اثر ہی نہیں
تمام ذہن کرائے پہ اٹھ گئے عالی
یہاں کسی کا کوئی نکتۂ نظر ہی نہیں
جلیل عالی
No comments:
Post a Comment