Saturday, 19 December 2020

اسی کی دھن میں کہیں نقش پا گیا ہے مرا

اسی کی دُھن میں کہیں نقش پا گیا ہے مِرا

جو آ کے خواب میں در کھٹکھٹا گیا ہے مرا

گزر گیا ہے جو پہلو بچا کے مجھ سے تو کیا

نظر جُھکا کے وہ گھر دیکھتا گیا ہے مرا

ہوں مُضطرب تِری گُم گشتہ آرزو کے لیے

دکانِ دل 💓 سے در بے بہا گیا ہے مرا

اسیرِ گنبدِ بے در پڑا ہوں مُدت سے

مِرے ہی دل پہ وہ پہرہ بٹھا گیا ہے مرا

قدم قدم پہ دیارِ وفا کے رستے میں

مِری زباں سے فسانہ سنا گیا ہے مرا

محیط ہے مِرے دیوار و در پہ تنہائی

نہ جانے کون اسے گھر بتا گیا ہے مرا


زاہد فارانی

No comments:

Post a Comment