صفحات

Wednesday, 2 December 2020

بھری بہار میں دامن دریدہ ہیں ہم لوگ

 بھری بہار میں دامن دریدہ ہیں ہم لوگ

ہمیں تھا زعم، بہار آفریدہ ہیں ہم لوگ

یہ اور بات کہ دامن دریدہ ہیں ہم لوگ

بہ فیضِ عشق مگر سر کشیدہ ہیں ہم لوگ

ہم آئینہ ہیں مگر عکسِ ذات سے محروم

تری صدا ہیں مگر ناشنیدہ ہیں ہم لوگ

جہاں جہاں بھی گئے ہیں مہک اٹھی ہے فضا

تِرے فراق کی بُوئے رسیدہ ہیں ہم لوگ

کڑی ہے دھوپ، شجر ہے، نہ سایۂ دیوار

بچھڑ کے اس سے سکوں ناچشیدہ ہیں ہم لوگ

یہ کس نے آئینہ سازی کا فن کیا ایجاد؟

یہ آئینے ہیں کہ چہرہ بریدہ ہیں ہم لوگ


راز مرادآبادی

No comments:

Post a Comment