صفحات

Wednesday, 2 December 2020

ہمیں سلیقہ نہ آیا جہاں میں جینے کا

 ہمیں سلیقہ نہ آیا جہاں میں جینے کا

کبھی کیا نہ کوئی کام بھی قرینے کا

تمہارے ساتھ ہی اس کو بھی ڈوب جانا ہے

یہ جانتا ہے مسافر تِرے سفینے کا

کچھ اس کا ساتھ نبھانا محال تھا یوں بھی

ہمارا اپنا تھا انداز ایک جینے کا

سخاوتوں نے گہرساز کر دیا ہے انہیں

کوئی صدف نہیں محتاج آبگینے کا


فارغ بخاری

No comments:

Post a Comment