صفحات

Sunday, 20 December 2020

ایک مدت ہوئی اک زمانہ ہوا

 ایک مدت ہوئی اک زمانہ ہوا

خاکِ گلشن میں جب آشیانہ ہوا

زلفِ برہم سے جب سے شناسائی ہے

زندگی کا چلن مجرمانہ ہوا

پھول جلتے رہے چاند ہنستا رہا

آرزو کا مکمل فسانہ ہوا

داغ دل کے شہنشہ کے سکے نہیں

دل کا مفلس کدہ جب خزانہ ہوا

راہبر نے پلٹ کر نہ دیکھا کبھی

راہرو راستے کا نشانہ ہوا

ہم جہاں بھی گئے ذوق سجدہ لیے

ہر جگہ آپ کا آستانہ ہوا

دیکھ مضراب سے خوں ٹپکنے لگا

ساز کا تار مرگ ترانہ ہوا

پہلے ہوتی تھی خوئےوفا پروری

اب تو ساغر یہ قصہ پرانا ہوا


ساغر صدیقی

No comments:

Post a Comment