صفحات

Sunday, 20 December 2020

پہلے تو دل وفا سے بھی آگے نکل گیا

 پہلے تو دل وفا سے بھی آگے نکل گیا

پھر دل اس انتہا سے بھی آگے نکل گیا

آواز دے کے اس کو بلاؤں میں کس طرح

وہ تو حدِ صدا سے بھی آگے نکل گیا

نکلی ہے روح نور کی رفتار سے بھی تیز

پَل میں کوئی خلا سے بھی آگے نکل گیا

کیوں در بدر اڑائے پھرے خاک کو ہوا

اب تو بدن فنا سے بھی آگے نکل گیا

اک تیر تھا کمانِ تخیل میں دیر سے

نکلا تو وہ خدا سے بھی آگے نکل گیا

سانسیں عدیم آخری لمحے میں ڈھونڈنا

میں کوچۂ ہوا سے بھی آگے نکل گیا

تُو لے کے آ گیا ہے دوا کس لیے عدیم

بیمار تو دوا سے بھی آگے نکل گیا


عدیم ہاشمی

No comments:

Post a Comment