پہلے تو دل وفا سے بھی آگے نکل گیا
پھر دل اس انتہا سے بھی آگے نکل گیا
آواز دے کے اس کو بلاؤں میں کس طرح
وہ تو حدِ صدا سے بھی آگے نکل گیا
نکلی ہے روح نور کی رفتار سے بھی تیز
پَل میں کوئی خلا سے بھی آگے نکل گیا
کیوں در بدر اڑائے پھرے خاک کو ہوا
اب تو بدن فنا سے بھی آگے نکل گیا
اک تیر تھا کمانِ تخیل میں دیر سے
نکلا تو وہ خدا سے بھی آگے نکل گیا
سانسیں عدیم آخری لمحے میں ڈھونڈنا
میں کوچۂ ہوا سے بھی آگے نکل گیا
تُو لے کے آ گیا ہے دوا کس لیے عدیم
بیمار تو دوا سے بھی آگے نکل گیا
عدیم ہاشمی
No comments:
Post a Comment