صفحات

Monday, 21 December 2020

شدید دکھ تھا اگرچہ تری جدائی کا

 شدید دکھ تھا اگرچہ تری جدائی کا

سوا ہے رنج ہمیں تیری بے وفائی کا

تجھے بھی ذوق نئے تجربات کا ہو گا

ہمیں بھی شوق تھا کچھ بخت آزمائی کا

جو میرے سر سے دوپٹہ نہ ہٹنے دیتا تھا

اسے بھی رنج نہیں میری بے رِدائی کا

سفر میں رات جو آئی تو ساتھ چھوڑ گئے

جنہوں نے ہاتھ بڑھایا تھا رہنمائی کا

رِدا چھٹی مرے سر سے، مگر میں کیا کہتی

کٹا ہوا تو نہ تھا ہاتھ میرے بھائی کا

ملے تو ایسے، رگِ جاں کو جیسے چھُو آئے

جدا ہوئے تو وہی کرب نارسائی کا

کوئی سوال جو پوچھے، تو کیا کہوں اس سے

بچھڑنے والے! سبب تو بتا جدائی کا؟

میں سچ کو سچ ہی کہوں گی، مجھے خبر ہی نہ تھی

تجھے بھی علم نہ تھا میری اس برائی کا

نہ دے سکا مجھے تعبیر، خواب تو بخشے

میں احترام کروں گی تری بڑائی کا


پروین شاکر

No comments:

Post a Comment