صفحات

Monday, 21 December 2020

اس موسم کی پہلی بارش سیلاب ہوئی

 اس موسم کی پہلی بارش سیلاب ہوئی

صحرا سے ڈرنے والوں کی شام عذاب ہوئی

فریادوں کو اوڑھنے والے چہرہ کھولیں کیا

یہ وہ آئینہ ہے جس میں شکل خراب ہوئی

سودا تھا جلدی چلنے کا آنکھ بھی رکھنی تھی

ان میزوں پہ جن کی کماں گردن محراب ہوئی

اور آنکھ کو خواب ملیں اور سائے کو انسان ملیں

ورنہ یہ ساری بستی تو محرمِ آب ہوئی

ہونٹوں پہ اندیشے رکھے بول سکو گے کیا

بوجھ سکو گے دیس کی مٹی کیوں زہراب ہوئی

اس دیوار کی پچھلی جانب پھولوں کی خوشبو

پوچھ رہی ہے اس آہٹ کا جو سیماب ہوئی


کشور ناہید

No comments:

Post a Comment