اس موسم کی پہلی بارش سیلاب ہوئی
صحرا سے ڈرنے والوں کی شام عذاب ہوئی
فریادوں کو اوڑھنے والے چہرہ کھولیں کیا
یہ وہ آئینہ ہے جس میں شکل خراب ہوئی
سودا تھا جلدی چلنے کا آنکھ بھی رکھنی تھی
ان میزوں پہ جن کی کماں گردن محراب ہوئی
اور آنکھ کو خواب ملیں اور سائے کو انسان ملیں
ورنہ یہ ساری بستی تو محرمِ آب ہوئی
ہونٹوں پہ اندیشے رکھے بول سکو گے کیا
بوجھ سکو گے دیس کی مٹی کیوں زہراب ہوئی
اس دیوار کی پچھلی جانب پھولوں کی خوشبو
پوچھ رہی ہے اس آہٹ کا جو سیماب ہوئی
کشور ناہید
No comments:
Post a Comment