صفحات

Monday, 21 December 2020

تم نے یہ کیا ستم کیا ضبط سے کام لے لیا

 تم نے یہ کیا ستم کیا ضبط سے کام لے لیا

ترکِ وفا کے بعد بھی میرا سلام لے لیا

رندِ خراب نوش کی بے ادبی تو دیکھیے

نیتِ مے کشی نہ کی، ہاتھ میں جام لے لیا

ہائے وہ پیکرِ ہوس، آہ وہ خوگرِ قفس

بیچ کے جس نے آشیاں حلقۂ دام لے لیا

بادہ کشانِ عشق کو کچھ تو ملا پئے سکوں

حسنِ سحر نہ لے سکے، جلوۂ شام لے لیا

نامۂ شوق پڑھ کے وہ کھو گئے یک بیک شکیل

منہ سے تو کچھ نہ کہہ سکے، دل سے پیام لے لیا ​


شکیل بدایونی

No comments:

Post a Comment