صفحات

Monday, 21 December 2020

جام توڑوں بھی تو آنکھوں سے پلانا چاہے

 جام توڑوں بھی تو آنکھوں سے پلانا چاہے

پھر وہ ظالم مجھے مے خوار بنانا چاہے

اس کا وہ پیار، کہ برسات کی پہلی بارش

جس میں انسان لگا تار نہانا چاہے

جب بھی آئے تو لگے وہ مجھے اُکتایا ہوا

لیکن ایسے کہ پلٹ کر بھی نہ جانا چاہے

ہاتھ رکھ دے مرے ہونٹوں پہ اگر میں بولوں

مجھ کو محفل کے وہ آداب سکھانا چاہے

جب تعلق نہ رہا کوئی تو جھگڑا کیسا؟

شاید اب وہ مرا دل بھی نہ دُکھانا چاہے

جرم کیا تھا مرا، اظہارِ تمنا کے سوا؟

وہ مجھے ضبط کی سولی پہ چڑھانا چاہے

دل کو یوں تھپکیاں دیتا ہوں کہ جیسے کوئی

اپنے روتے ہوئے بچے کو سُلانا چاہے

میں تو فرسودہ روایات کا منکر ہوں قتیل

میں بھی کیوں چاہوں وہی جو یہ زمانہ چاہے


قتیل شفائی

No comments:

Post a Comment