صفحات

Monday, 21 December 2020

یہ کیا ہے محبت میں تو ایسا نہیں ہوتا

 یہ کیا ہے محبت میں تو ایسا نہیں ہوتا

میں تجھ سے جدا ہو کہ بھی تنہا نہیں ہوتا

اس موڑ سے آگے بھی کوئی موڑ ہے ورنہ

یوں میرے لیے تو کبھی ٹھہرا نہیں ہوتا

کیوں میرا مقدر ہے اجالوں کی سیاہی

کیوں رات کے ڈھلنے پہ سویرا نہیں ہوتا

یا اتنی تبدیل نہ ہوئی ہوتی یہ دنیا

یا میں نے اسے خواب میں دیکھا نہیں ہوتا

سنتے ہیں سبھی غور سے آواز جرس کو

منزل کی طرف کوئی روانہ نہیں ہوتا

دل ترک تعلق پہ بھی آمادہ نہیں ہے

اور حق بھی ادا اس سے وفا کا نہیں ہوتا


شہریار خان

No comments:

Post a Comment