پھر وہی ضد کہ ہر اک بات بتانے لگ جائیں
اب تو آنسو بھی نہیں ہیں کہ بہانے لگ جائیں
تیری تکریم بھی لازم ہے شبِ اوجِ وصال
پر یہ ڈر ہے کہ یہ لمحے نہ ٹھکانے لگ جائیں
کچھ نمو کے بھی تقاضے ہیں سرِ کشتِ خیال
ورنہ ہم لوگ تو بس خاک اڑانے لگ جائیں
ایک لمحے کی ملاقات کا خاموش سفر
ان کہے لفظ نہ اب شور مچانے لگ جائیں
وہ رفاقت، وہ فسانہ، وہ تماشا، وہ خلوص
کوئی عنوان تلاشیں تو زمانے لگ جائیں
ہم سمجھتے ہیں ستم زاد قبیلوں کو نوید
پیڑ سرسبز، گھنا ہو تو گرانے لگ جائیں
چاند بے کل کرے جب تارے ستانے لگ جائیں
اہلِ غربت تِری روداد سنانے لگ جائیں
ہم تِرے غم میں اگر اشک بہانے لگ جائیں
دربدر آگ پھرے شہر ٹھکانے لگ جائیں
ان کو اتنے تو پر و بال مہیا کر دے
یہ پکھیرو تِری آواز پہ آنے لگ جائیں
ہم ہی، ممکن ہے تِرے ناز اٹھانے لگ جائیں
پہلے یہ زخم پرانے تو ٹھکانے لگ جائیں
تیرے آوارہ، چلو ہم ہی رہیں گے، لیکن
یہ نہ ہو، تجھ کو بھلانے میں زمانے لگ جائیں
روک لو اپنے سلگتے ہوئے جذبوں کے شرار
اس سے پہلے کہ کوئی حشر اٹھانے لگ جائیں
ریزہ ریزہ، جنہیں سینے میں بہم رکھتا ہوں
وہی چپکے سے مری خاک اڑانے لگ جائیں
میری جاں! دیکھ یہی وصل کے موسم نہ کہیں
قریۂ گُل پہ تگ و تاز اٹھانے لگ جائیں
روکتے روکتے بھی، آنکھ چھلک اٹھتی ہے
کیا کریں، دل کو اگر روگ پرانے لگ جائیں
نوید صادق
No comments:
Post a Comment