صفحات

Friday, 8 January 2021

نگہ شوق کا پیغام مجھے لوٹا دو

نگہ شوق کا پیغام مجھے لوٹا دو

میرا جام مئے گلفام مجھے لوٹا دو

میں نے جو اک نامۂ شوق لکھا تھا کبھی

لکھ کے اس خط پہ مرا نام مجھے لوٹا دو

صبح تو عالم آواز شکست شب ہے

میری سنولائی ہوئی شام مجھے لوٹا دو

میں تو عادی ہوں خود اپنا ہی لہو پینے کا

لاؤ خالی ہی سہی مجھے جام لوٹا دو

چاندنی رات کی ناگن سے نہ ڈسواؤ مجھے

میری قسمت کی سیہ شام مجھے لوٹا دو

دوستو آپ کے کچھ کام نہیں آئے گی

لاؤ یہ شورش آلام مجھے لوٹا دو

میں نے اس بھولنے والے کو لکھا ہے اَختر

میرا اندیشۂ انجام مجھے لوٹا دو


علیم اختر

No comments:

Post a Comment