نگہ شوق کا پیغام مجھے لوٹا دو
میرا جام مئے گلفام مجھے لوٹا دو
میں نے جو اک نامۂ شوق لکھا تھا کبھی
لکھ کے اس خط پہ مرا نام مجھے لوٹا دو
صبح تو عالم آواز شکست شب ہے
میری سنولائی ہوئی شام مجھے لوٹا دو
میں تو عادی ہوں خود اپنا ہی لہو پینے کا
لاؤ خالی ہی سہی مجھے جام لوٹا دو
چاندنی رات کی ناگن سے نہ ڈسواؤ مجھے
میری قسمت کی سیہ شام مجھے لوٹا دو
دوستو آپ کے کچھ کام نہیں آئے گی
لاؤ یہ شورش آلام مجھے لوٹا دو
میں نے اس بھولنے والے کو لکھا ہے اَختر
میرا اندیشۂ انجام مجھے لوٹا دو
علیم اختر
No comments:
Post a Comment