صفحات

Monday, 11 January 2021

محبتوں کو کہیں اور پال کر دیکھو

 محبتوں کو کہیں اور پال کر دیکھو

متاعِ جاں کو بدن سے نکال کر دیکھو

بدل کے دیکھو کبھی نسبتوں کی دنیا کو

بدن کو روح کے خانے میں ڈال کر دیکھو

سنو اسے تو سماعت سے ماوراء ہو کر

جو دیکھنا ہو تو آنکھیں نکال کر دیکھو

یقین دشت سے پھوٹے گا آب جو کی طرح

کہ حرف "لا" کی گواہی بحال کر دیکھو

بدن کی پیاس بھی اک ماوراء کہانی ہے

ہر ایک بوند کو دریا خیال کر دیکھو

پلٹ کے آئیں گے ساون کے رنگ آنکھوں میں

تم اپنے آپ سے رشتہ بحال کر دیکھو

تم اپنے گوہرِ یکتا کو اس طرح ڈھونڈو

کہ خود کو بے سر و ساماں خیال کر دیکھو


احمد شناس

No comments:

Post a Comment