صفحات

Monday, 11 January 2021

چمکا جو چاند رات کا چہرہ نکھر گیا

 چمکا جو چاند رات کا چہرہ نکھر گیا

مانگے کا نور بھی تو بڑا کام کر گیا

یہ بھی بہت ہے سیکڑوں پودے ہرے ہوئے

کیا غم جو بارشوں میں کوئی پھول مر گیا

ساحل پہ لوگ یوں ہی کھڑے دیکھتے رہے

دریا میں ہم جو اُترے، تو دریا اُتر گیا

ہر سخت مرحلے میں اکیلے ہی رہ گئے

جو کارواں تھا ساتھ ہمارے بکھر گیا

سایہ بھی آپ کا ہے فقط روشنی کے ساتھ

ڈھونڈو گے تیرگی میں کہ سایہ کدھر گیا

جھپکی پلک تو موسمِ گل کا پتا نہ تھا

’جھونکا سا اک ہوا کا اِدھر سے اُدھر گیا‘

ہم جس کے انتظار میں جاگے تمام رات

آیا بھی وہ تو خواب کی صورت گزر گیا

مشکل ہے اب کسی کا سمانا نگاہ میں

وہ اک جھلک کے ساتھ ہی آنکھوں کو بھر گیا

ہم نے تو گل کی، چاند کی، تارے کی بات کی

سب اہلِ انجمن کا گماں آپ پر گیا

بجلی کا قمقمہ سا چراغِ حیات ہے

ٹوٹا نفس کا تار اندھیرا اُبھر گیا

جیتے جی مر چکے تھے مگر اپنا ہر نفس

ہم ہی پہ سانس لینے کا الزام دھر گیا

گھر ہی نہیں رہا ہے سلامت بتائیں کیا

غالب کے بعد سیلِ بلا کس کے گھر گیا

مقطع کہو کہ لطفِ سخن کا بھرم رہے

جاویدؔ اب غزل کا نشہ سا اُتر گیا


عبداللہ جاوید

No comments:

Post a Comment