چمکا جو چاند رات کا چہرہ نکھر گیا
مانگے کا نور بھی تو بڑا کام کر گیا
یہ بھی بہت ہے سیکڑوں پودے ہرے ہوئے
کیا غم جو بارشوں میں کوئی پھول مر گیا
ساحل پہ لوگ یوں ہی کھڑے دیکھتے رہے
دریا میں ہم جو اُترے، تو دریا اُتر گیا
ہر سخت مرحلے میں اکیلے ہی رہ گئے
جو کارواں تھا ساتھ ہمارے بکھر گیا
سایہ بھی آپ کا ہے فقط روشنی کے ساتھ
ڈھونڈو گے تیرگی میں کہ سایہ کدھر گیا
جھپکی پلک تو موسمِ گل کا پتا نہ تھا
’جھونکا سا اک ہوا کا اِدھر سے اُدھر گیا‘
ہم جس کے انتظار میں جاگے تمام رات
آیا بھی وہ تو خواب کی صورت گزر گیا
مشکل ہے اب کسی کا سمانا نگاہ میں
وہ اک جھلک کے ساتھ ہی آنکھوں کو بھر گیا
ہم نے تو گل کی، چاند کی، تارے کی بات کی
سب اہلِ انجمن کا گماں آپ پر گیا
بجلی کا قمقمہ سا چراغِ حیات ہے
ٹوٹا نفس کا تار اندھیرا اُبھر گیا
جیتے جی مر چکے تھے مگر اپنا ہر نفس
ہم ہی پہ سانس لینے کا الزام دھر گیا
گھر ہی نہیں رہا ہے سلامت بتائیں کیا
غالب کے بعد سیلِ بلا کس کے گھر گیا
مقطع کہو کہ لطفِ سخن کا بھرم رہے
جاویدؔ اب غزل کا نشہ سا اُتر گیا
عبداللہ جاوید
No comments:
Post a Comment