صفحات

Wednesday, 13 January 2021

ہم اگر قصہ فرہاد سنانے لگ جائیں

 ہم اگر قصۂ فرہاد سنانے لگ جائیں

رات کٹنے بھی ممکن ہے زمانے لگ جائیں

ہم تم رکھتے ہیں محبت کے تسلسل پہ یقیں

ہم نہیں وہ جو نئے دوست بنانے لگ جائیں

شورشِ وقت میں گمنام ہی رہنا اچھا

کیا کریں لوگ جہاں نام کمانے لگ جائیں

کس طرح ٹھہرے کوئی شب بسری کی خاطر

پیڑ جب خود ہی پرندوں کو اڑانے لگ جائیں

میرے بچ جانے کی امید ہے اب تک قائم

میرے ملبے کو اگر آپ ہٹانے لگ جائیں

کسی چشمے کو ابھی تک نہیں معلوم کہ ہم

اور بڑھتی ہے اگر پیاس بجھانے لگ جائیں

میرے اشعار ادا ہوں تیرے ہونٹوں سے اگر

ٹوٹے پھوٹے میرے الفاظ ٹھکانے لگ جائیں

دن نکلنے کی دعا مانگنے والے تنویر

تنگ آ کر نہ کہیں شہر جلانے لگ جائیں


تنویر سیٹھی

No comments:

Post a Comment