صفحات

Wednesday, 13 January 2021

اک طرف جام اک طرف آنکھیں

 اک طرف جام اِک طرف آنکھیں

اور سچ مچ میرا ہدف آنکھیں

جب شہنشاہِ حسن گزرے گا

اس کو دیکھیں گی صف بہ صف آنکھیں

جب جدائی کا میں نے ذکر کیا

گوہر افشاں ہوئیں صدف آنکھیں

چار جانب بھٹک بھٹک کے یوں

ڈھونڈتی ہیں دُرِ نجف آنکھیں

کون اس سے یہ اب کہے ناطق

چاہیں دیدار کا شرف آنکھیں


ناطق جعفری

No comments:

Post a Comment